6 دسمبر 2014 - 13:04
اسرائيل خطے کو جنگ کي آگ ميں دھکيل رہا ہے

حماس کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ اسرائيل اپنے اشتعال انگيز اقدامات کے ذريعے خطے کو جنگ کي آگ ميں دھکيلنے کي کوشش کر رہا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق فلسطين کي اسلامي مزاحمتي تحريک حماس کے سربراہ خالد مشعل نے اسکائي نيوز سے گفتگو ميں صيہوني فوجيوں کي جارحيت پر صيہوني حکومت کے وزيراعظم نيتن ياہو کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارحانہ کاروائيوں سے، حالات اور زيادہ کشيدہ ہوں گے جس کے ذمہ دار، صيہوني وزيراعظم ہوں گے-

انھوں نے کہا کہ مسجد الاقصي ميں انتہا پسند صيہونيوں کے داخلے کي حمايت کرکے، بنيامين نيتن ياہو، آگ سے کھيلنے کي کوشش کررہے ہيں.
فلسطين کي اسلامي مزاحمتي تحريک حماس کے سربراہ خالدمشعل نے کہا کہ بيت المقدس ميں فلسطينيوں کي انتفاضہ اور اسي طرح فلسطينيوں اور صيہوني فوجيوں کے درميان بڑھتي ہوئي جھڑپيں،مسئلہ فلسطين کے منصفانہ حل کے حوالے سے، پائي جانے والي مايوسي کا نتيجبہ ہيں-
انھوں نے کہا کہ غاصب صيہوني حکومت، اگر اپني جارحانہ خصلت سے باز نہيں آئي تو حالات اور زيادہ کشيدہ ہوں گے-
فلسطين کي اسلامي مزاحمتي تحريک حماس کے سربراہ خالد مشعل نے يہ بھي کہا کہ فلسطين ميں قومي آشتي کے عمل کو کامياب بنانے کيلئے، کسي بھي طرح کي کوشش سے دريغ نہيں کيا جائے گا

ايک سرکردہ فلسطيني رہنما نے انکشاف کيا ہے مغربي ممالک اسرائيل کو ايک يہودي حکومت منوانے کے منصوبے پر کام کررہے ہيں.

فلسطيني انتظاميہ کي مذاکراتي ٹيم کے سربراہ صائب عريقات نے انکشاف کياہے يورپي ملکوں منجملہ فرانس کي طرف سے تيار کردہ مسودہ قرارداد جسے سلامتي کونسل ميں پيش کرنے کي تياري ہورہي ہے ايسي شقوں پر مشتمل ہے جس ميں اس بات پر زورديا گيا ہے کہ غاصب اسرائيل کو ايک يہودي حکومت کے طور پر تسليم کرليا جائے –
صائب عريقات نے کہا ہے کہ يورپي ملکوں کے مسودہ قرارداد ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ فلسطيني مزاحمتي گروہوں کو نہتا کرديا جائے - انہوں نے کہا کہ يہ مسودہ قرارداد فرانس اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل ميں پيش کرے گا -
اس مسودہ قرارداد کے مطابق فلسطيني اور اسرائيلي فريق دوہزار سترہ تک اپنے مذآکرات جاري رکھيں گے اور پھر اس کے بعد فرانس اور کچھ ديگر يورپي ممالک فلسطين کو ايک آزاد ملک کي حيثيت سےتسليم کرليں گے -
صائب عريقات کا کہنا ہے کہ اس مسودہ قرارداد کي تياري ميں جرمني اور برطانيہ بھي شريک رہے ہيں - جبکہ برطانيہ نے اس ميں کئي شقوں کا ا ضافہ بھي کيا جس کي فلسطينيوں نے مخالفت کي ہے. انہوں نے کہا فلسطينيوں نے اسرائيل کو ايک يہودي حکومت کے طور پر تسليم کئے جانے ک شديد مخالفت کي ہے -
انہوں نے کہا کہ فلسطيني قوم اسرائيل کو ايک يہودي رياست کے طور پر ہرگز تسليم نہيں کرےگي کيونکہ اس سے اپني تاريخي سرزمين کے بارے ميں فلسطينيوں کي روايت اور عقائد کي ہي نفي ہوجائے گي -انہوں نے کہا کہ اگر فلسطينيوں نے اسرائيل کوايک يہودي رياست تسليم کرلي تو اس کا مطلب يہ ہوگا کہ سرزمين فلسطين فلسطينيوں کي نہيں ہے -
.......

/169